امریکی ریاست ٹیکساس میں تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 82 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے اور حکام کو شدید متاثرہ کیر کاؤنٹی میں لوگوں کو بروقت محفوظ مقام پر منتقل نہ کرنے کی ناکامی پر سنگین سوالات کا سامنا ہے۔
اتوار کو ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے بتایا کہ سیلاب کے تین دن بعد بھی ریاست بھر میں کم از_کم 41 افراد لاپتہ ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکام لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے کام جاری رکھیں گے اور خبردار کیا کہ منگل تک جاری رہنے والی شدید بارشوں کے نئے سلسلے سے مزید جان لیوا سیلاب آسکتا ہے۔
کیر کاؤنٹی میں، شیرف لیری لیتھا نے اتوار کو بتایا کہ تلاش کرنے والی ٹیموں نے 68 افراد کی لاشیں برآمد کی ہیں، جن میں 28 بچے بھی شامل ہیں، جن میں سے بیشتر کیمپ مسٹک نامی لڑکیوں کے ایک مسیحی سمر کیمپ سے لاپتہ ہوئے تھے۔ لیتھا کے مطابق، مزید 10 لڑکیاں اور ایک کاؤنسلر اب بھی لاپتہ ہیں، اور انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ “ہر ایک کو تلاش کرنے تک” تلاشی مہم جاری رہے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متاثرین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر جمعہ کو علاقے کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی انتظامیہ گورنر ایبٹ سے رابطے میں ہے۔
یہ سیلابی صورتحال جمعہ کو یومِ آزادی کی تعطیل کے موقع پر وسطی ٹیکساس کے علاقے میں طوفانی بارشوں کے بعد قریبی گواڈیلوپ دریا کے کناروں سے پانی باہر نکلنے کے بعد پیدا ہوئی۔
حکام کو اس حوالے سے بڑھتے ہوئے سوالات کا سامنا ہے کہ آیا سیلاب کے خطرے سے دوچار اس علاقے میں کافی انتباہ جاری کیے گئے تھے اور کیا مناسب تیاریاں کی گئی تھیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، نیشنل ویدر سروس کی جانب سے پانی کی سطح میں اضافے کے بارے میں بار بار انتباہ جاری کرنے کے بعد گواڈیلوپ دریا کے کنارے کئی کمیونٹیز کو خالی کرا لیا گیا تھا، لیکن کیر کاؤنٹی میں ایسا نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موسمیاتی سائنسدان طویل عرصے سے خبردار کرتے رہے ہیں کہ گرم ہوا زیادہ نمی جذب کرے گی جس کے نتیجے میں شدید طوفان آئیں گے، لیکن اس کے باوجود وفاقی سطح پر موسم کی پیش گوئی اور انتظام کے وسائل کو خطرات لاحق ہیں۔ سابق ڈائریکٹر NOAA، رِک اسپنراڈ نے الجزیرہ کو بتایا کہ تحقیق میں کمی سے پیش گوئیوں کی درستگی کم ہو جائے گی، جس سے لوگوں کے لیے تیاری کرنا مشکل ہو جائے گا۔